موسم بڑا سہانا تھا ، میں نے پیکٹ سے سگریٹ
نکالا،اور باہر دیکھنے لگا۔ شمس صاحب بچوں کوکوئی قصہ سنارہے تھے۔ لڑکیاں آپس میں باتیں کر رہی
تھیں، میں بڑی طمانیت محسوس کر رہا تھا، اور میں اپنے آپ میں مگن تھا ، ایک طویل
کش لیکر دھواں نکالا ، اچانک پھر نظروں کی چبھن کا احساس ہوا، میں نے سر گھماکر
صائمہ کی اور مڑا، وہ حمیدۃ سے باتیں کر رہی تھی، حمیدہ بڑی توجہ سے اسکی گفتگو سن
رہی تھی
(مجھے سگریٹ پینا بہت اچھا لگتا ہے)
اس آواز نے مجھے چوکا دیا ، وہ کوئی اور نہیں تھی
،وہ صائمہ تھی،حمیدہ سے باتیں کر رہی تھی ،آس پاس اور بھی لڑکیاں تھیں، لڑکیوں نے
ادھر ادھر دیکھا اور ہںسنے لگیں،
صائمہ نے انہیں گھورا (مذاق نہیں ،میں سگریٹ
پیتی ہوں)وہ بولی۔
(سچمچ تم سگریٹ پیتی ہو؟)سائرہ حیرت سے بولی۔
ہاں ـ میں ہر سال دو سگریٹ پیتی ہوں ـ صائمہ کے
لہجے میں سنجیدگی تھی۔ وہ بھی چھپ کر نہیں ڈیڈی سے لیکر۔
ـکوئی تمہں منا نہں کرتا ؟ـ ایک
اور لڑکی نے اپنا نازک ہونٹ کو جمبش دیا۔
ـنہیں ـمیں نے کہا نا میں ڈیڈی سے لے کر پیتی ہون۔
Comments
Post a Comment