Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2017

Taj mahal

لا بقاء إلا الله

هل تريد أن تبقى شابا معافى غنيا مخلدا؟ إن كنت تريد ذالك فإنه ليس فى الدنيا ، بل هناك فى الآخرة ، إن هذه الدنيا كتب الله عليها الشقاء والفناء، و سماها لهوا ولعبا ومتاع الغرور عاش أحد الشعراء معدما مفلسا، وهو في عنفوان شبابه، يريد درهما فلا يجد ه  يريد زوجة فلا يحصل عليها ، فلما كبرت سنه و شاب رأسه ، و رق عظمه ، جاءه المال من كل مكان ، و سهل أمر زواجه و سكنه ، فتأوه من هذُه المتضادات و أنشد: ما كنت أرجوه إذ كنت ابن عشرينا : ملكته بعد ما جاوزت سبعينا. تطوف بى من بنات الترك أغزلة : مثل الظباء على كثبان يبرينا. قالو: أنينك طول اليل يسهرنا : فما الذى تشتكى ؟ قلت : الثمانىنا . (أولم نعمر كم ما يتذكر فيه من تذكر وجاءكم النذير) ، وظنوا أنهم  إلينا لايرجعون) ، ( وما هذه الحياة الدنيا إلا لهو ولعب) إن مثل هذه الدنيا كمسافر استظل تحت ظل شجرة ثم ذهب و ترك

قسمت

ایک لحاظ سے دنیا میں بد قسمتی کا کوئی وجود نہیں ہے ، خوش قسمتی اور بد قسمتی دونوں لازم و ملزوم چیز ہیں ، ہر بد قسمتی بالکل اسی طرح ہے جس طرح ندی کے بہاؤ میں کوئی رکاوٹ آجاتی ہے اور ندی جب اس رکاوٹ کو دور کردیتی ہے تووہ  پہلے سے بڑھ کر زور و شور کے ساتھ بہنے لگتی ہے                                          

Rishta

Good morning

سال میں دوبار

موسم بڑا سہانا تھا ، میں نے پیکٹ سے سگریٹ نکالا،اور باہر دیکھنے لگا۔ شمس صاحب بچوں کوکوئی  قصہ سنارہے تھے۔ لڑکیاں آپس میں باتیں کر رہی تھیں، میں بڑی طمانیت محسوس کر رہا تھا، اور میں اپنے آپ میں مگن تھا ، ایک طویل کش لیکر دھواں نکالا ، اچانک پھر نظروں کی چبھن کا احساس ہوا، میں نے سر گھماکر صائمہ کی اور مڑا، وہ حمیدۃ سے باتیں کر رہی تھی، حمیدہ بڑی توجہ سے اسکی گفتگو سن رہی تھی (مجھے سگریٹ پینا بہت اچھا لگتا ہے) اس آواز نے مجھے چوکا دیا ، وہ کوئی اور نہیں تھی ،وہ صائمہ تھی،حمیدہ سے باتیں کر رہی تھی ،آس پاس اور بھی لڑکیاں تھیں، لڑکیوں نے ادھر ادھر دیکھا اور ہںسنے لگیں، صائمہ نے انہیں گھورا (مذاق نہیں ،میں سگریٹ پیتی ہوں)وہ بولی۔ (سچمچ تم سگریٹ پیتی ہو؟)سائرہ حیرت سے بولی۔ ہاں ـ میں ہر سال دو سگریٹ پیتی ہوں ـ صائمہ کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔ وہ بھی چھپ کر نہیں ڈیڈی سے لیکر۔ ـکوئی تمہں منا نہں کرتا  ؟ـ  ایک اور لڑکی نے اپنا نازک ہونٹ کو جمبش دیا۔ ـنہیں ـمیں نے کہا نا  میں ڈیڈی سے لے کر پیتی ہون۔ ـسال میں دوبار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! سائرہ اب ...

کتنے بد نصیب تھے

فرعون : ا س کے بارے میں فرمایا ‘‘فرعون اور اس کے ساتھی صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں’’ قارون : ا س کے بارے میں فرمایا گیا : ‘‘ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھسا دیا’’ الولید بن مغیرہ : جس کے متعلق کہا گیا ‘‘ میں اس کی جان سختی سے نکا لوںگا ’’ امیہ بن خلف : جس کے متعلق ارشاد ہوا ‘‘بربادی ہو ہر عیب چین اور چغل خور کے لئے ’’ ابو لہب : جس کے بارے میں فرمایا گیا ‘‘ ابو لہب کے دونوں ھاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا’’ العاص بن وائل : جس کے کو عذاب کی وعید سنائ گئ ‘‘ ہر گز نہیں جو کچھ وہ کہتا ہے ہم لکھیں گے اور اسے زیادہ سے زیادہ عذاب دیں گے

My work

Every thing is under Allah إن الأجل قد فرغ منه ، وإن لكل شيء بقضاء و قدر ، فلا يأسف العبد ، ولا يحزن على ما يجرى ، إن رزق المخلوق عند الخالق فى السماء ، فلا يملكه أحد ، ولا يتصرف فيه قوم ، ولا يمنعه إنسان ، إن الماضى قد ذهبت بهمومه وغمومه ، و انتهى فلن يعود ، ولو اجتمع العالم بأسره على إعادته.