Skip to main content

لا بقاء إلا الله


هل تريد أن تبقى شابا معافى غنيا مخلدا؟ إن كنت تريد ذالك فإنه ليس فى الدنيا ،
بل هناك فى الآخرة ، إن هذه الدنيا كتب الله عليها الشقاء والفناء، و سماها لهوا ولعبا ومتاع الغرور

عاش أحد الشعراء معدما مفلسا، وهو في عنفوان شبابه، يريد درهما فلا يجد ه  يريد زوجة فلا يحصل
عليها ، فلما كبرت سنه و شاب رأسه ، و رق عظمه ، جاءه المال من كل مكان ، و سهل أمر زواجه
و سكنه ، فتأوه من هذُه المتضادات و أنشد:
ما كنت أرجوه إذ كنت ابن عشرينا : ملكته بعد ما جاوزت سبعينا.
تطوف بى من بنات الترك أغزلة : مثل الظباء على كثبان يبرينا.
قالو: أنينك طول اليل يسهرنا : فما الذى تشتكى ؟ قلت : الثمانىنا .
(أولم نعمر كم ما يتذكر فيه من تذكر وجاءكم النذير) ، وظنوا أنهم  إلينا لايرجعون) ، ( وما هذه الحياة الدنيا إلا لهو ولعب)

إن مثل هذه الدنيا كمسافر استظل تحت ظل شجرة ثم ذهب و ترك

Comments

Popular posts from this blog

हिन्दू आतंकवादी नही होता....... Hindus are not terrorists

हिन्दू आतंकवादी नही होता - नरेन्द्र मोदी मोदी जी ये बात तो हम भी मानते हैं हिन्दु कभी आतंकवादी नही होता है वो तो आतंकवादी बनते है संघ और बीजेपी में शामिल होने के बाद सही बात है ना ?? अगर नही तो फिर ये क्या है ?????????

School, #Teachers#and Students

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نےسامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔ کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" ”نہیں"۔۔ کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی" ۔۔۔ ٹیچر آ...

بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق#Housband right I'm in income of wife

بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق سوال: کچھ لوگ عورتوں کی ملازمت کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ جو رقم تنخواہ کے طور پر عورت حاصل کرتی ہے وہ مرد پر حرام ہے ۔ بہ راہ کرم اس بارے میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: عورت کا اصل میدان کار اور اس کا فرض منصبی ، شوہر کی خدمت ، گھر کی نگرانی اور بچوں کی پرورش ہے ۔ حدیث میں ہے :  وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِ زَوْجِھَا وَ وَلَدِہٖ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ ( بخاری:7138، و مسلم :1829)  ’’عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کو متاثر کیے اور نقصان پہنچائے بغیر وہ ملازمت کرسکتی ہے ، البتہ مشاہرہ کی شکل میں ، جو رقم اسے حاصل ہوگی اس کی وہ مالک ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (النساء:۳۲)  ’’جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔‘‘ مرد کا محض شوہر ہونا اس کو عورت کی آمدنی کا مستحق نہیں بنا دیتا ۔ البتہ بیوی ا...