غزل .....پھؤل چاہے تھے مگر ہاتھ میں آۓ پتھر
پھول چاہے تھے مگر ہاتھ میں آۓ پتھر
ہم نے آغوش محـــبّــــــت میں سلای پتھر
وحشت دل کے تکلف کی ضرورت کے لے
آج اس شوخ نے زلفوں میں سجاۓ پتھر
ان کے قدموں کے تلے چاند ستارے دیکھے
اپنی راہوں میں سلگتے ہوے پتھر
میں تری یاد کو یوں دل میں لے پھرتا ہوں
جیسے فرہاد نے سینے سے لگاۓ پتھر
فکر ساغر کے خریدار نہ بھولیں گے کبھی
میں نے اشکوں کےگہر تھے جو ہٹاۓ پتھر
Comments
Post a Comment