شاٸستہ پروین کے آنسو “
مجیب الرحمن جھارکھنڈ
رابطہ 7061674542
کہتے ہیں کہ گھر کو کتنوں ہی سجا لیا جاے رنگ برنگ کی قالینیں بچھالی جاٸیں طرح طرح کے قمقمے لگا لۓ جاٸیں زیب و زینت کی ساری حدیں پار کر لی جاٸیں مگر جس گھر میں بیٹی نہ ہو اس گھر کی ساری رعناٸیاں وزیباٸیاں ماند پڑ جاتی ہیں ساری خوشیاں پلید ہو جاتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ بیٹی کے بغیر گھر خوشی سے محروم رہتا ہے صرف خوشی ہی نہیں بلکہ رحمتوں و برکتوں سے بھی محروم ہوتا ہے بیٹی ہر موڑ پر گھر کیلۓ زینت ہوتی ہے خصوصا تہواروں میں تو یہ منظر قابل دید ہوتاہے جب بیٹی خود کو سنوارتی ہے اورپھر پورا گھر کا صحن چمک اٹھتا ہے یہ منظر دیکھ کر والدین کی خوشی الگ ہوتی ہے بھاٸیوں کا بھی چہرہ کھل اٹھتا ہے اورپھر ایک مرحلہ وہ آتا ہے جب گھر کی زینت اپنے گھر کو چھوڑ کر دوسرے گھر میں چلی جاتی ہے اور اس گھر کی خوشیوں میں اضافہ کرتی ہے دراصل وہی اس کا اصلی گھر ہوتا ہے جہاں اس کو ایک نٸ زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے ایک اجنبی سے وہ منسلک ہو جاتی ہے جواسکا جیون ساتھی ہوتا ہے وہ خود کو اس کے حوالہ کردیتی ہے ، اب جبکہ وہ والدین کے گھر سے رخصت ہورہی ہوتی ہے تو پوا گھر ماتم کناں ہوتا ہے ایک ایک ذرہ آنسو بہاتا ہے کیوں کہ اب وہ منظر جو دلوں کو خوش کرہا تھا وہ رخصت ہوجاتا ہے ، کہنا یہ ہے کہ شاٸستہ پرویں زوجہ ”مرحوم تبریز “ بھی کسی کی بیٹی ہے کسی کی بہن ہے کسی کے گھر کی زینت ہے گھر کی آبرو ہے آج وہ اپنے شوہر کے انصاف کی خاطر دردر کی بھیک مانگ رہی ہے دردر کی ٹھوکریں کھارہی ہے سڑکوں پر اتر کرانصاف کا مطالبہ کررہی ہے اس بنا پر کہ اس کے شوہر کو کچھ شرپسندوں نے موت کے گھاٹ اتاردیے تھے اس کے ہم سفر کو اس کے ہاتھ سے چھین لیا تھا وہ انصاف کی جنگ لڑرہی ہے اور حکومت سے اس کا مطالبہ کررہی ہے اس جوان بیوہ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آغاز جوانی میں اس کو یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ہاتھوں کی مہندی خشک ہونے سے پہلے اس کو بیوہ ہوجانا ہوگا اور لوگوں میری اس قدر شہرت ہوجاے گی پردہ حیا کو اتر جانا ہوگا اور اس کی آواز لوگوں کے کانوں تک بھی پہنچ جاٸیگی لیکن اس جوان بیوہ کو یہ سب منظر جبرا دیکھنا پڑرہا ہے ، ایک طرف حکومت کا نعرہ ”بیٹی بچاٶ بیٹی بڑھاو“ اور دوسری طرف حال یہ کہ بیٹیوں کی زندگیاں گھٹ رہی ہیں آۓ دن وہ عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں جبرا اس کی آبرو پامال کرکے اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے اور پھر انصاف کا ایک طوفان آتاہے اور فقد امید دلاکر اس طوفان کو ٹال دیا جاتا ہے انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور مجرموں کے حصلوں میں نٸ امگنیں پیدا کردی جاتی ہیں اس طرح کے واقعات و حادثات روز افزوں ہیں اس سے پہلے نجیب کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو دنیا نے دیکھا اس کی ماں اپنی درازی عمر کے باوجود شاہراہوں پر انصاف کی بھیک مانگتی رہی حکومت کے درازہ پر خود کو ڈال کر رسوا کیا بعض مقامات پر تو اس بے کس ماں کو پولیس کے دھکے کھانے پڑے لیکن کہیں سے امید کی کرنیں پھوٹتی دکھاٸ نہیں دی اور انصاف کا نعرہ بھرنے والے سب غاٸب ہوگۓ آج شاٸستہ پروین بھی جھارکھنڈ حکومت سے عاجز آکر اور وہاں کے پولیس کی ظلم و زیادتی کو دیکھتے ہوۓ انصاف کی خاطر مظاہرہ کرتے ہوۓ دہلی پہنچ چکی ہے لوگوں کے بھیڑ میں اپنے جذبات کا اظہار کررہی ہے اپنے دکھ درد کےگن گارہی ہے اور آنسو بہا بہا کر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے ایک خاتوں جو گھر کی عزت ہے گھر کی آبرو ہے گھر کی خوشی ہے وہ سڑکوں پر اتر آٸ ہے اور اپنے ٹوٹے ہوۓ دل کی داستان کولوگوں کے کانوں تک ہچکچاتے ہوۓ لرزتے ہوۓ پہنچارہی ہے تاکہ کوٸ اسے بیٹی سمجھ کر بہن سمجھ کر گھر کی زینت سمجھ کر اس کے آنسو پونچھ سکے اس کی آواز سے آواز ملا سکے اور اس کے شوہر کے قاتلوں کو جنہیں بری کیا جارہا ہے حکومت سے اس کے خلاف سخت کاررواٸ کا مطالبہ کرے اس لۓ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح ہم نے آغاز حادثہ میں شاٸستہ کا ساتھ دیا تھا اور اس کے شوہر کے انصاف کی خاطر جس طرح ہم نے مظاہرہ کیا تھا اب جبکہ معاملہ کچھ بدل ساگیا ہے اور انصاف کا قتل ہوتا دیکھا جارہا ہے ہم انصاف کی خاطر اس کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس کے نازک دل پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں اور ایک انسان کا جو حق ہوتا ہے دوسرے انسان پر اس کو ادا کرکے انسانیت کا ثبوت پیش کریں اس معاملہ کو ہلکہ میں لینے کی کوشش نہ کریں ورنہ پورا ملک ظلم و بربریت کی آماجگاہ بن جاے گا “
رابطہ 7061674542
کہتے ہیں کہ گھر کو کتنوں ہی سجا لیا جاے رنگ برنگ کی قالینیں بچھالی جاٸیں طرح طرح کے قمقمے لگا لۓ جاٸیں زیب و زینت کی ساری حدیں پار کر لی جاٸیں مگر جس گھر میں بیٹی نہ ہو اس گھر کی ساری رعناٸیاں وزیباٸیاں ماند پڑ جاتی ہیں ساری خوشیاں پلید ہو جاتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ بیٹی کے بغیر گھر خوشی سے محروم رہتا ہے صرف خوشی ہی نہیں بلکہ رحمتوں و برکتوں سے بھی محروم ہوتا ہے بیٹی ہر موڑ پر گھر کیلۓ زینت ہوتی ہے خصوصا تہواروں میں تو یہ منظر قابل دید ہوتاہے جب بیٹی خود کو سنوارتی ہے اورپھر پورا گھر کا صحن چمک اٹھتا ہے یہ منظر دیکھ کر والدین کی خوشی الگ ہوتی ہے بھاٸیوں کا بھی چہرہ کھل اٹھتا ہے اورپھر ایک مرحلہ وہ آتا ہے جب گھر کی زینت اپنے گھر کو چھوڑ کر دوسرے گھر میں چلی جاتی ہے اور اس گھر کی خوشیوں میں اضافہ کرتی ہے دراصل وہی اس کا اصلی گھر ہوتا ہے جہاں اس کو ایک نٸ زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے ایک اجنبی سے وہ منسلک ہو جاتی ہے جواسکا جیون ساتھی ہوتا ہے وہ خود کو اس کے حوالہ کردیتی ہے ، اب جبکہ وہ والدین کے گھر سے رخصت ہورہی ہوتی ہے تو پوا گھر ماتم کناں ہوتا ہے ایک ایک ذرہ آنسو بہاتا ہے کیوں کہ اب وہ منظر جو دلوں کو خوش کرہا تھا وہ رخصت ہوجاتا ہے ، کہنا یہ ہے کہ شاٸستہ پرویں زوجہ ”مرحوم تبریز “ بھی کسی کی بیٹی ہے کسی کی بہن ہے کسی کے گھر کی زینت ہے گھر کی آبرو ہے آج وہ اپنے شوہر کے انصاف کی خاطر دردر کی بھیک مانگ رہی ہے دردر کی ٹھوکریں کھارہی ہے سڑکوں پر اتر کرانصاف کا مطالبہ کررہی ہے اس بنا پر کہ اس کے شوہر کو کچھ شرپسندوں نے موت کے گھاٹ اتاردیے تھے اس کے ہم سفر کو اس کے ہاتھ سے چھین لیا تھا وہ انصاف کی جنگ لڑرہی ہے اور حکومت سے اس کا مطالبہ کررہی ہے اس جوان بیوہ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آغاز جوانی میں اس کو یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ہاتھوں کی مہندی خشک ہونے سے پہلے اس کو بیوہ ہوجانا ہوگا اور لوگوں میری اس قدر شہرت ہوجاے گی پردہ حیا کو اتر جانا ہوگا اور اس کی آواز لوگوں کے کانوں تک بھی پہنچ جاٸیگی لیکن اس جوان بیوہ کو یہ سب منظر جبرا دیکھنا پڑرہا ہے ، ایک طرف حکومت کا نعرہ ”بیٹی بچاٶ بیٹی بڑھاو“ اور دوسری طرف حال یہ کہ بیٹیوں کی زندگیاں گھٹ رہی ہیں آۓ دن وہ عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں جبرا اس کی آبرو پامال کرکے اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے اور پھر انصاف کا ایک طوفان آتاہے اور فقد امید دلاکر اس طوفان کو ٹال دیا جاتا ہے انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور مجرموں کے حصلوں میں نٸ امگنیں پیدا کردی جاتی ہیں اس طرح کے واقعات و حادثات روز افزوں ہیں اس سے پہلے نجیب کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو دنیا نے دیکھا اس کی ماں اپنی درازی عمر کے باوجود شاہراہوں پر انصاف کی بھیک مانگتی رہی حکومت کے درازہ پر خود کو ڈال کر رسوا کیا بعض مقامات پر تو اس بے کس ماں کو پولیس کے دھکے کھانے پڑے لیکن کہیں سے امید کی کرنیں پھوٹتی دکھاٸ نہیں دی اور انصاف کا نعرہ بھرنے والے سب غاٸب ہوگۓ آج شاٸستہ پروین بھی جھارکھنڈ حکومت سے عاجز آکر اور وہاں کے پولیس کی ظلم و زیادتی کو دیکھتے ہوۓ انصاف کی خاطر مظاہرہ کرتے ہوۓ دہلی پہنچ چکی ہے لوگوں کے بھیڑ میں اپنے جذبات کا اظہار کررہی ہے اپنے دکھ درد کےگن گارہی ہے اور آنسو بہا بہا کر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے ایک خاتوں جو گھر کی عزت ہے گھر کی آبرو ہے گھر کی خوشی ہے وہ سڑکوں پر اتر آٸ ہے اور اپنے ٹوٹے ہوۓ دل کی داستان کولوگوں کے کانوں تک ہچکچاتے ہوۓ لرزتے ہوۓ پہنچارہی ہے تاکہ کوٸ اسے بیٹی سمجھ کر بہن سمجھ کر گھر کی زینت سمجھ کر اس کے آنسو پونچھ سکے اس کی آواز سے آواز ملا سکے اور اس کے شوہر کے قاتلوں کو جنہیں بری کیا جارہا ہے حکومت سے اس کے خلاف سخت کاررواٸ کا مطالبہ کرے اس لۓ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح ہم نے آغاز حادثہ میں شاٸستہ کا ساتھ دیا تھا اور اس کے شوہر کے انصاف کی خاطر جس طرح ہم نے مظاہرہ کیا تھا اب جبکہ معاملہ کچھ بدل ساگیا ہے اور انصاف کا قتل ہوتا دیکھا جارہا ہے ہم انصاف کی خاطر اس کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس کے نازک دل پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں اور ایک انسان کا جو حق ہوتا ہے دوسرے انسان پر اس کو ادا کرکے انسانیت کا ثبوت پیش کریں اس معاملہ کو ہلکہ میں لینے کی کوشش نہ کریں ورنہ پورا ملک ظلم و بربریت کی آماجگاہ بن جاے گا “

Comments
Post a Comment