Skip to main content

تعلیمی زوال نے دیا ارتداد کا پتہ



مجیب الرحمن   جھارکھنڈ 

تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے امیر ہو یا غریب شاہ ہو یا گدا بادی ہو یا شہری ہر ایک کو اس کی ضرورت ہے تعلیم کے بغیر زندگی اندھیری ہے جسمیں نہ روشنی ہے اور نہ ہی کوٸ لذت تعلیم کے بغیر انسان ترقی نہیں کرسکتا اس کی ترقیوں کا راز اسی پر منحصر ہے تعلیم ہی سے انسانوں اور حیوانوں کے مابین  فرق معلوم ہوتا ہے اس کے بغیر گویا کہ دونوں یکساں ہیں  اسی تعلیم کے آگے ترقیوں نے گھٹنے ٹیک دۓ حتی کہ چاند تاروں کو بھی رشک آنے لگا اسی تعلیم نے وقت کے بڑے بڑے سوپر پاور طاقتوں کو زیر کیا اور ایوان باطل میں زلزلہ بپا کردیا قرآن پاک میں تعلیم کے سلسلہ میں باربار تاکید آٸ ہے  سب  سے پہلی وحی جو آ پ ﷺ پر نازل ہوٸ وہ بھی تعلیم کی اہمیت و افادیت پر دال ہے زبان رسالت نے بھی اس کی طرف توجہ دلاٸ اور یہاں تک فرمادیا کہ اتنا علم کا سیکھنا جس سے کہ انسان اچھی بری حلال و حرام کی تمیز کر لے لازم و ضروی ہے آج موجودہ نٸ نسل کا جو المیہ ہے وہ یہی کہ تعلیم سے اسے بوریت محسوس ہوتی ہے  علم کے نام سنتے ہی وہ گھوڑے کی طرح بدکتنے لگتی ہے دنیا کی تمام مصروفیات اسے محبوب لیکن علم کی مصروفیت سے  خاصی دشمنی ہے نتیجہ یہ ہے کہ یہ نسل مذہبی تعلیمات سے کوسوں دور جاچکی ہے مذہب کے نام سے بالکل عاری ہیں اخلاق و عادات طور و طریق رہن سہن معاشرتی زندگی کا آداب و ڈھنگ گویا کہ حیوانیت کا لبادہ ا وڑھ لیا ہے نٸ نسل میں تعلیمی زوال روز افزوں بڑھتا ہی جارہا ہے مکمل طور پر انحطاط کا شکار ہے جس کانتیجہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہماری نٸ نسلیں ارتداد کی زد میں ہیں علاقہ کا علاقہ مرتد ہورہا ہے اور اسلام کو الوداع کہ رہا ہے اور یہ سلسلہ شدت اختیار کررہا ہے  بہت افسوس ہوتا ہے کہ جس اسلام کی خاطر لوگوں نے ایسی ایسی قربنیاں دی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے اسلام کی آبیاری میں بے شمار انسانوں کا خون شامل ہے لیکن چونکہ ہمیں اسلام کی خاطر کوٸ قربانی نہیں دینی پڑی اور بلا مشقت و محنت کے ہم تک یہ پہنچا تو ہم اس  کی قدر بھول گۓ ہم نے اس کو کھلونا سمجھ لیا ہے جیسے چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں جو کہ بہت بڑی حماقت ہے آج جبکہ پروانہ وار لوگ مرتد ہورہے ہیں اور اسلام کو چھوڑ رہے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم خاموش تماشاٸ بنے بیٹھے ہیں اس کی وجہ یہ ہے ک  ہم نے اس کی اشاعت و ترویج میں دلچسپی نہیں لی ہم نے اس کو لوگوں تک پہنچانے کیلۓ کوٸ تدبیر نہیں کی اور نہ ہی اب کررہے ہیں جبکہ غیروں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کی ترویج و شاعت میں پوری تواناٸ صرف کر رہے ہیں اور اسلام کے خلاف محاذ کھولے بیٹھا ہے ان کی کوشش یہ ہے کہ پوری دنیا میں اسلام کی تعلیمات پر پردہ پڑ جاۓ اور سارے عالم بلکہ خود ان کے اداروں  میں ہماری تعلیم کا راج ہوجاۓ اور اس معاملہ میں بہت حد تک وہ کامیاب بھی ہو چکے ہیں اور ہورہے ہیں آج مسلمانوں کے بعض ادارے ایسے ہیں جن میں  اسلامیات کے ساتھ ان کی تعلیمات بھی شامل ہیں لیکن ان کی تعلیمات زیادہ کار گر ثابت ہورہی ہیں اور پڑھنے پڑھانے والے اس سے  زیادہ متاثر ہو رہے ہیں  اور مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کی تعلیم اسی ماحول سے شروع کرتے ہیں جس ماحول میں ہر طرف کفر ہی کفر ہے اندھیرا ہی اندھیرا ہے  الحاد کی حکمرانی ہے یوربین کلچر غالب ہے اس طریقہ کی نسل اس ماحول میں پروان چڑتی ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آگے چل کر اس کی تعلیمات سے متاثر ہو کر ارتداد کا شکار ہوجاتی ہے اور اسلام کو خیر آباد کہ دیتی ہے نتیجہ ہمارے سامنےآ ج ہر طرف ارتداد کا ایک طوفان بپا ہے ایک سیلاب آیا ہوا ہے اور اس طوفان کو روکنا کوٸ آسان سا کام نہیں آج ہم دیکھ رہے ہیں کتنی ہماری مسلم لڑکیاں مرتد ہوکر غیروں کے ساتھ شادیاں رچا چکی ہیں اور رچا رہی ہیں اپنا ہاتھ ان کے  ہاتھ میں دے رہی ہیں ابھی فی الحال کا واقعہ ہے کہ مہاراشٹر کے کسی گاٶں میں جہاں چار پانچ سو کی آبادی تھی لیکن معلوم ہوا کہ پورا کا پورا گاٶں مرتد ہوگیا اور اسلام کو الوداع کہ دیا یہ اس لۓ ہوا کہ وہاں کے لڑکی لڑکیوں کی تعلیم براہ راست غیروں کے اسکولوں سے ہوٸ اور اس ماحول کو سیکھ کر اپنے اپنے گھروں میں وہی ماحول نافذ کیا جس کے زد میں پورا علاقہ ارتداد کا شکار ہوگیا اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں اور یہ سلسہ تسلسل کےساتھ جاری و ساری ہے وہ تو اپنے مشن میں زور و شور کے ساتھ لگے ہیں اور اور اس میں کوٸ کسر اٹھا نہیں رکھی ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ اپنی تعلیمات اور اس کی ترویج و اشاعت میں زوال کا شکار ہیں اور روز افزوں ہمارے زوال میں تیزی آرہی  ہے  ہمارے پاس کوٸ ایسا اسکول نہیں جہاں ہم بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین پر بھی کار بند رکھ سکیں سواۓ چند کے  جو نا کے برابر ہے  اور اگر ہے بھی تو براۓ نام ، اس لۓ ایسے ماحول میں ہماری ذمہ داریاں دوبھر ہوجاتی ہیں کہ ہم اس اٹھتے ہوے طوفان سے مقابلہ کریں اس کو روکنے کی کوشش کریں اور اپنے اس نٸ نسل کو اسلام پر باقی رکھنے کیلۓ کچھ تدبیریں کریں کچھ ایس حکمت عملی اپناٸیں جس سےہم اس میں تعلیمی بیداری لا سکیں اور اس کو ارتداد سے بچا سکیں ہمیں اپنے طریقہ دعوت میں تبدیلی لانی ہوگی یاد رہے دعوت منصوص ہے طریقہ دعوت منصوص نہیں ہے ہمیں کچھ وقت ان مسلم لڑکیوں کیلۓ بھی نکالنا ہوگا جو اسلام سے دور رہ کر اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور سراپا یورپین کلچر میں جی رہی ہیں  اور ان کے سامنے ان کے تقاضے کے مطابق قرآن کی بتاٸ ہوٸ حکمت کا پیکر بن کر ان کے سامنے اسلام پیش کرنا ہوگا اول مرحلہ میں ان کو کچھ رخصت دی جاٸیگی تاکہ وہ اسلام سے قریب ہوسکے اگر اس طرح کی کوششیں رہیں اور ہمارا یہ سلسلہ برقرار رہا تو فضا بدل سکتی ہے  اور یہ سیلاب تھم سکتا ہے “

Comments

Popular posts from this blog

हिन्दू आतंकवादी नही होता....... Hindus are not terrorists

हिन्दू आतंकवादी नही होता - नरेन्द्र मोदी मोदी जी ये बात तो हम भी मानते हैं हिन्दु कभी आतंकवादी नही होता है वो तो आतंकवादी बनते है संघ और बीजेपी में शामिल होने के बाद सही बात है ना ?? अगर नही तो फिर ये क्या है ?????????

School, #Teachers#and Students

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نےسامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔ کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" ”نہیں"۔۔ کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی" ۔۔۔ ٹیچر آ...

بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق#Housband right I'm in income of wife

بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق سوال: کچھ لوگ عورتوں کی ملازمت کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ جو رقم تنخواہ کے طور پر عورت حاصل کرتی ہے وہ مرد پر حرام ہے ۔ بہ راہ کرم اس بارے میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: عورت کا اصل میدان کار اور اس کا فرض منصبی ، شوہر کی خدمت ، گھر کی نگرانی اور بچوں کی پرورش ہے ۔ حدیث میں ہے :  وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِ زَوْجِھَا وَ وَلَدِہٖ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ ( بخاری:7138، و مسلم :1829)  ’’عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کو متاثر کیے اور نقصان پہنچائے بغیر وہ ملازمت کرسکتی ہے ، البتہ مشاہرہ کی شکل میں ، جو رقم اسے حاصل ہوگی اس کی وہ مالک ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (النساء:۳۲)  ’’جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔‘‘ مرد کا محض شوہر ہونا اس کو عورت کی آمدنی کا مستحق نہیں بنا دیتا ۔ البتہ بیوی ا...