قرآن پاک دنیا کا واحد کتاب ہےجو پوری انسانیت کلۓ رہنما
اصول ہے جس کا ایک ایک حرف سچا و صادق ہے جس کی آیات واحکامات پیغامات و تعلیمات میں شک و شبہ کی کوٸ گنجاٸش نہیں جسنےپوری انسانیت کواندھیروں سےنکال کر روشنی میں لاکھڑا کیا سسکتی و بلکتی ↙انسانیت کو سہارا دیا دم توڑتی انسانیت کو حیات نو بخشی گم گشتہ انسانوں کو صراط مستقیم پر گامزن کیا انہیں دنیا میں آنے کا مقصد سمجھایا خداۓ وحدہ لا شریک کی پہچان کرآٸ دربدر سر جھکانے کے بجاۓ ایک در کو تھام لینے کی تلقین کی خود ساختہ خداٶں کے آگے قادر مطلق خدا کے آگے جھکایا ذلت والی زندگی سے نکال کر عزت کی زندگی بخشی محکوم سے حاکم بنایا مغلوب سے غالب کیا رنگ و نسل کا جھگڑا مٹایا سیاہ و سفید کی تفریق ختم کی آپسی بھاٸ چارہ کو فروغ دیا اخوت و مساوات کا درس دیا چھوٹے و بڑے کا ادب سکھایا جینے کا ڈھنگ عطاکیا معاشرتی مساٸل سے آگاہ کیا ایک دوسرے کے حقوق ببان کیا اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے کھانے پینے کے آداب بتایا الغرض زندگی کے ہرموڑ پر وہ کتاب ہادی و رہبر ہے ” جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ ” ہم نے ہی اس کو اتارا اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں “ اور آگے فرمایا “ تم ہی سربلند رہوگے اگر تم سچے پکے مومن ہو “ اور زبان رسالت نے یوں ادا کیا ” میں تمہارے لۓ دوچیزوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم ان کو پکڑے رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے ، ” ایک کتاب ہدایت “ دوسرے “ میری سنت “ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان قرآنی احکامات پر جمے رہے ان کو سینے سے لگاۓ رکھا ان کی تعلیمات پر عمل پرا رہے تو کبھی ان کو ذلت و رسواٸ کا منہ دیکھنا نہیں پڑا ہمیشہ کامیابی و کامرانی نے ان کا استقبال کیا فتح و سربلندی نے ان کی قدم بوسی کی کاٸنات کی ایک ایک چیز ان کے تابع رہی باد مخالف نے ان کا ساتھ دیا شیر نے سواری دی رعب و دبدبہ کا یہ حال تھا کہ ان کی آواز سن کر ماں اپنے کھیلتے بچہ کو اندر بلالیتی تھی دشمن مسلمانوں کی آواز سن کر ترا اٹھتا تھا باطل طاقتیں آہٹ سن کر کانپ جاتی تھی اور کیوں نہ ہو قرآن کا یہ وعدہ تھا کہ تم ہی سربلند رہوگے بشرطیکہ تمہارا ایمان راسخ ہو “ اس آیت کریمہ پر ان کا خوب عمل تھا اور اس آیت کریمہ کے وعدہ پر ان کو یقین تھا جس کی وجہ سے انہوں نے بھر پور فاٸدہ اٹھایا اپنی زندگی کو اس آیت کا آٸنہ بنایا تعلیمات خدا وندی اور سنت رسول ﷺ کو زندگی کے ہر ہر جز۶ میں شامل کیا تھا جس کا نتیجہ اس آیت کے تناظر میں ان کے سامنے آیا ، اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہوگیا کہ ہم ذلت بھری زندگی گزار رہے ہیں غلا میت نے ہمیں آدبوچا محکومیت کی زنجیر میں ہم جکڑے ہوۓ ہیں اور چاروں طرف سے باطل طاقتیں ہم پر حملہ آور ہیں پوری دنیا میں ہم مظلوم ہیں دشمنان اسلام ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہیں ہمارا نام سن کر ان کا خون ابال مارنے لگتا ہے ان کی ساری کوشش یہ ہے کہ ہمارے و جود کا خاتمہ ہوجاۓ ہمیں پریشان کرکے ان کو راحت ملتی ہے ظاہر ہے یہ اس وجہ سے کہ ہم نے قرآن کو ٹھکرایا اس کی تعلیمات سے منہ موڑا اپنی زندگی کو اس سے دور رکھا ورنہ کامیابی و کامرانی ہمارے لۓ تھی بلکہ پوری کاٸنات ہمارے لۓ مسخر تھی لیکن ہم نے اس سربلندی و سرفرازی کو ٹھکرایا اور قرآن کے اس وعدہ سے مکر گۓ ذلت کو اختیار کیا پسپاٸ کو ترجیح دی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ہم ایک بے قیمت سامان بن کر رہ گۓ ہیں جس کو ہر شخص ٹھکرا دیتا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں اس وقت ہم جس مقام پر ہیں وہ ہمارے شایان شان نہیں ہے ذلت و رسواٸ ہمارے لۓ نہیں بناٸ گٸ ہے ہم حاکم بنا کر بھیجے گۓ ہیں ، اس لۓ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم سے یہ بلا و مصیبت ٹل جاۓ تو ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی ڈھالنی ہوگی اسی میں ہماری کامیابی ہے اگر اس سے ہم ہٹے تھے قعر و مذلت کی کھاٸ میں گرتے چلے جاٸیں گے اور پھر اس دنیا سے ہمارا وجود مٹ جاۓ گا ،
हिन्दू आतंकवादी नही होता - नरेन्द्र मोदी मोदी जी ये बात तो हम भी मानते हैं हिन्दु कभी आतंकवादी नही होता है वो तो आतंकवादी बनते है संघ और बीजेपी में शामिल होने के बाद सही बात है ना ?? अगर नही तो फिर ये क्या है ?????????
خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نےسامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔ کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" ”نہیں"۔۔ کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی" ۔۔۔ ٹیچر آ...
بیوی کی کمائی میں شوہر کا حق سوال: کچھ لوگ عورتوں کی ملازمت کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ جو رقم تنخواہ کے طور پر عورت حاصل کرتی ہے وہ مرد پر حرام ہے ۔ بہ راہ کرم اس بارے میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: عورت کا اصل میدان کار اور اس کا فرض منصبی ، شوہر کی خدمت ، گھر کی نگرانی اور بچوں کی پرورش ہے ۔ حدیث میں ہے : وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِ زَوْجِھَا وَ وَلَدِہٖ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ ( بخاری:7138، و مسلم :1829) ’’عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کو متاثر کیے اور نقصان پہنچائے بغیر وہ ملازمت کرسکتی ہے ، البتہ مشاہرہ کی شکل میں ، جو رقم اسے حاصل ہوگی اس کی وہ مالک ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (النساء:۳۲) ’’جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔‘‘ مرد کا محض شوہر ہونا اس کو عورت کی آمدنی کا مستحق نہیں بنا دیتا ۔ البتہ بیوی ا...
Comments
Post a Comment